تازہ ترینکھیل

وقار یونس اور مصباح الق میرے بڑے بھائیوں جیسے ہیں. محمد عامر نے بیان بدل دیا

وقار یونس اور مصباح الق میرے بڑے بھائیوں جیسے ہیں. محمد عامر نے بیان بدل دیا

قومی ٹیم کے سابق فاسٹ باولر محمد عامر نے کہا ہے کہ کرکٹ میں قومی سکواڈ کو پبلک سلیکشن کہا جا سکتا ہے، مگر میرٹ کا خیال اس میں جتنا ضروری تھا اس میں‌نہیں‌رکھا گیا.

ایک نجی سوشل میڈیا سائٹ کو محمد عامر نے انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ موجودہ سلیکشن کمیٹی بھی ماضی کی طرح سینئرز کےساتھ ٹھیک اور دوستانہ نہیں ، آوٹ اور ان ہونا یہ تو کھیل کا حصہ ہو تا ہے مگر یا سر اور حارث جیسے پلیئرز کو سلیکڑز نے ڈراپ کر دیا افسوس ہوا لیکن انکو قبل اعتماد میں لینا چاہیے تھا. مزید کہا کہ جون میں‌پی ایس ایل پھر شروع کرانے کا اعلان بہت خوشی کی بات ہے لیکن سب سے یہ بات ضروری ہےکہ جو جو خامیاں ہیں‌انکو پہلے دور کرنے کی کوشش کی جائے اور بائیو سکیور ببل محفوظ بنایا جائے، کھلاڑیوں کے علاو کسی اور کو ہوٹل میں ہر گز ٹھہرنے کی اجازت نہ دی جائے ، ایک یہ کہ تمام تر بیرونی مداخلت کو ختم کرنا چاہیے.

ریٹائرمنٹ کے فیصلے پر بھی قائم ہوں عامر کا کہنا اور سبز شرٹ پہننے کا خواب ختم ہو چکا ہے، مصباح الحق اور وقار یونس سے کوئی جگھڑا نہیں ذاتی، دونوں بڑے بھائیوں جیسے ہیں بہت کچھ ان دونوں‌سے سکھا ہے اگر مجھے پرفارمنس کی بنیاد پر ڈراپ کیا جاتا تو دکھ اور اف نہیں ہوتا، میری اپنی ذات کو تنقید کا کیوں‌نشانہ بنا یا گیا. مزید کہتے ہوئے کہا کہ کھلاڑیوں کو سپورٹ کی ضرورت ہو تی ہے جو کہ ٹیم کا فرض‌بھی ہے سب کو ساتھ لے کر چلنا، بھارت کے کھلاڑی بمرا کی بھی مثال بھی ہمارے سامنے ہیں کچھ میچیز میں وہ زیادہ وکٹیں نہیں‌لے سکا مگر کسی نے نہ کوئی تنقیند اور زیادہ اعتماد بھی ملا ، اور ہمارے ہاں پاکستان میں بھی اس طرح کلچر کو فروغ دینا ہوگا.

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button